Monday, November 18, 2013

تربت کہاں لوح سر تربت بھی نہیں ہے



تربت کہاں لوح ِ سرِ تربت بھی نہیں ہے
اب تو تمہیں پھولوں کی ضرورت بھی نہیں ہے

وعدہ تھا یہیں کا جہاں فرصت بھی نہیں ہے 
اب آگے کوئی اور قیامت بھی نہیں ہے 

اظہارِ محبّت پہ بُرا مان گئے وہ 
اب قابلِ اظہار محبّت بھی نہیں ہے 

کس سے تمھیں تشبیہہ دوں یہ سوچ رہا ہوں 
ایسی تو جہاں میں کوئی صوُرت بھی نہیں ہے 

تم میری عیادت کے لئے کیوں نہیں آتے 
اب تو مجھے تم سے یہ شکایت بھی نہیں ہے

اچھا مجھے منظور قیامت کا بھی وعدہ 
اچھا کوئی اب دور قیامت بھی نہیں ہے 

باتیں یہ حسینوں کی سمجھتا ہے قمر خوب 
نفرت وہ جسے کہتے ہیں نفرت بھی نہیں ہے 

خبر اب تو لے بے مروت کسی کی قمر جلالوی

خبر اب تو لے بے مروت کسی کی
چلی جان تیری بدولت کسی کی

مجھے حشر میں پیش داور جو دیکھا
ذرا سی نکل آئی صورت کسی کی

   خدا کے لئے یوں نہ ٹھکرا کے چلئے
کہ پامال ہوتی ہے تربت کسی کی

ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامد

   قمرتم بگاڑو گے عادت کسی کی​

قمرؔ جلالوی

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں قمر جلالوی

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں 
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں ​

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو 
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں ​

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے 
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں ​

بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شبِ فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں ​

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو 
سنتے ہیں‌کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں ​

کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں، ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے، ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں​

تاروں کی بہاروں میں ‌بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو 
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارہ کرتے ہیں ​

مریض محبت انہی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے قمر جلالوی

مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے

انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے
تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے"

مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے
قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے
استاد قمر جلالوی

کس یاس سے مرے ہیں مریض انتظار کے قمر جلالوی





کِس یاس سے مرے ہیں مریض اِنتظار کے 

قاتل کو یاد کر کے ، قضا کو پُکار کے
مقتل میں حال پُوچھو نہ مجھ بے قرار کے

تم اپنے گھرکو جاؤ چُھری پھیر پھار کے
رُکتی نہیں ہے گردشِ ایّام کی ہنسی

لے آنا طاق سے مِرا ساغر اُتار کے
جی ہاں شراب خور ہیں ہم تو جنابِ شیخ

بندے بس ایک آپ ہیں، پروردگار کے 
لِکھّا ہُوا جہاں تھا مُقدّر میں ڈوبنا !

کشتی کو موج لائی وہیں گھیر گھار کے
صیّاد تیرے حُکمِ رہائی کا شکریہ

ہم تو قفس میں کاٹ چُکے دن بہار کے 
ہم اُن سےبات کر نہ سکے بزمِ غیر میں

شوقِ کلام رہ گیا دل مار مار کے
بجلی کبھی گِری، کبھی صیّاد آگی

اہم نے تو چار دن بھی نہ دیکھے بہار کے
کتنی طویل ہوتی ہے اِنساں کی زندگی

سمجھا ہُوں آج میں شبِ فرقت گزار کے
میّت قمر کی دیکھ کے بولے وہ صبحِ ہجر

تارے گِنے گئے نہ شبِ انتظار کے