Tuesday, September 10, 2013

Designed poetry of Qamar Jalalvi

On internet Designed poetry of Urdu poets are very popular,people love to read the Ghazals with the relative background design.So I've designed many ghazals of Ustad Qamar Jalalvi for his fans.You can read these designed ghazals on the link below to this image,hope you will love these designed ghazals of Ustad Qamar Jalalvi.This Ghazal is taken from the book "Rashk e qamar".
Here is a link to more designed poetry of Ustad Qamar Jalalvi Ustad Qamar Jalalvi designed poetry Collection.

Here is that beautiful ghazal in urdu text form.

  • یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لی
    کہاں رہ گئے تھے بڑی رات کر لی
    شبِ غم کبھی در کو اٹھ اٹھ کے دیکھا
    کبھی ان کی تصویر سے بات کر لی
    ہم اہلِ جنوں کا ٹھکانہ نہ پوچھو
    کہیں دن نکالا کہیں رات کر لی
    چلے آئے موسٰی کو جلوہ دکھانے
    قیامت سے پہلے ملاقات کر لی
    قمرؔ اپنے گھر ان کو مہماں بلا کر
    بِلا چاند کے چاندنی رات کر لی


استاد قمر جلالوی کے خوبصورت اشعار کا انتخاب Qamar Jalalvi Ashaar


کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں
نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں
بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو
تری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں
بہاروں میں یہ بھی ستم دیکھتے ہیں
کہ جلتا ہے گھر اور ہم دیکھتے ہیں
زمانے کو ان کے کرم دیکھتے ہیں
مگر اپنی قسمت کو ہم دیکھتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں
چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے
چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے
قمر اک دن سفر میں خود ہلالِ عید بن جاؤں
اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آجائے
چاندنی کی سیر ان کے ساتھ یہ حسرتِ فضول
اے قمر نفرت ہے ان کو چاند کی تنویر سے
اے قمر صبح ہوئی اب تو اٹھو محفل سے
شمع گل ہو گئی رخصت ہوئے پروانے تک
سیر فلک کو بام پہ آئے وہ جو قمر
تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا

I hope you will like this selection.Beautifully designed poetry of Ustad Qamar Jalalvi can be read on this link Designed poetry of Qamar Jalalvi.Hope you will enjoy.


کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو استاد قمر جلالوی

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو
چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت
طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو
مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے
حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو
سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو
دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو
اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو


If you are willing to read beautiful designed poetry of Ustad Qamar Jalalvi Click Here.