کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں
نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں
بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو
تری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں
بہاروں میں یہ بھی ستم دیکھتے ہیں
کہ جلتا ہے گھر اور ہم دیکھتے ہیں
زمانے کو ان کے کرم دیکھتے ہیں
مگر اپنی قسمت کو ہم دیکھتے ہیں
کہ جلتا ہے گھر اور ہم دیکھتے ہیں
زمانے کو ان کے کرم دیکھتے ہیں
مگر اپنی قسمت کو ہم دیکھتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں
چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے
چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے
چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے
قمر اک دن سفر میں خود ہلالِ عید بن جاؤں
اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آجائے
اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آجائے
چاندنی کی سیر ان کے ساتھ یہ حسرتِ فضول
اے قمر نفرت ہے ان کو چاند کی تنویر سے
اے قمر نفرت ہے ان کو چاند کی تنویر سے
اے قمر صبح ہوئی اب تو اٹھو محفل سے
شمع گل ہو گئی رخصت ہوئے پروانے تک
شمع گل ہو گئی رخصت ہوئے پروانے تک
سیر فلک کو بام پہ آئے وہ جو قمر
تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا
تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا
I hope you will like this selection.Beautifully designed poetry of Ustad Qamar Jalalvi can be read on this link Designed poetry of Qamar Jalalvi.Hope you will enjoy.
No comments:
Post a Comment