Tuesday, September 10, 2013

استاد قمر جلالوی کے خوبصورت اشعار کا انتخاب Qamar Jalalvi Ashaar


کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں
نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں
بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو
تری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں
بہاروں میں یہ بھی ستم دیکھتے ہیں
کہ جلتا ہے گھر اور ہم دیکھتے ہیں
زمانے کو ان کے کرم دیکھتے ہیں
مگر اپنی قسمت کو ہم دیکھتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں
چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے
چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے
قمر اک دن سفر میں خود ہلالِ عید بن جاؤں
اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آجائے
چاندنی کی سیر ان کے ساتھ یہ حسرتِ فضول
اے قمر نفرت ہے ان کو چاند کی تنویر سے
اے قمر صبح ہوئی اب تو اٹھو محفل سے
شمع گل ہو گئی رخصت ہوئے پروانے تک
سیر فلک کو بام پہ آئے وہ جو قمر
تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا

I hope you will like this selection.Beautifully designed poetry of Ustad Qamar Jalalvi can be read on this link Designed poetry of Qamar Jalalvi.Hope you will enjoy.


No comments:

Post a Comment